موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

Archive for جولائی, 2012

وقت کی کمی

ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے. خیر کافی حد تو تو یہ بات درست ہی معلوم ھوتی ہے لیکن جب ارد گرد نظر دوڑائی جاۓ تو اندازہ ہوتا ہے کہ خالی غریب ہی نہیں بلکہ عجیب بھی ہے. ھمارے ملک میں دولت کے میعار پے ماپا جاۓ تو امارت اور غربت کے درمیان فرق حیران کن بھی ہے اور خطرناک بھی. دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کس نے کی اسکا ذمدار کون یہ تو بھائی اپنے کو بھی نہیں پتا ہان البتہ اتنا ضرورپتا ہے کہ قومی سطح پر ہم سب کو ایک چیز ایک جتنی ہی ملی ہے اور ہم اسکو دل اگا کر ضائع کرتے ہیں. کہنے والوں نے اس چیز کو وقت کا نام دیا ہے، اور زمانے کی نہ انصافیوں کے بعد ہمارے پاس لے دے کر یہ ایک وقت ہی ہے جو شاید وافر مقدار میں ہے. کئی بار تو ان لوگوں پر عجیب سی حیرت ھونے لگتی ہے جو کہتے ہیں کہ وقت بہت قیمتی ہے اور تھوڑا بھی. نہ جانے انکی عقلوں پر کس طرز کی تراش خراش کے روڑے پڑے ہوئے ہیں. خیر کوئی کچھ بھی کہے ہم اس وقت کو اپنا قومی فرض سمجھ کر استعمال کریں گے اور ہمارا استعمال کا طریقہ ہی ہے اسکو ضائع کرنا. کوئی کام وقت پر نہ ہونا چاہے وہ تعلیمی امتحانات ہوں یا کوئی شادی بیاہ کی تقریب اس وقت نامی چیز کا سہی ’معنوں‘ میں استعمال ہوتا ہے، کچھ دنیا سے عاجز لوگ بیان داغتے رهتے ہیں کہ وقت برباد کر دیا.

ایکسپورٹ امپورٹ ـ از ابن انشاء

ایک یورپین ایک روز ہماری روحانیت کی تعریف کررہاتھا ہم نے کہا۔اے بھیاہمارے ساتھ سوداطئے کرلے یہ”

روحانیت توہم سے لے لے، ہم تجھے اپنے صوفی بھی بخشتے ہیں،تصوف کی دولت بھی تیری نذر ہے۔ہمارے ہاں شاعربھی بڑابڑاپڑاہے۔ وہ بھی سپردم بتومایہ خوش را،یہ سب لے کر تواپنی روح کی پاکیزگی کااہتمام کر۔اتنے میں ہم تیرے ٹریکٹر ،تیری ملیں،تیری حرفتیں،تیرے ٹیکنیکل کالج اورتیرازرمبادلہ استعمال کرتے ہیں۔
ہ…مارانسخہ مشرق ومغرب کو حتی الوسع ہم سطح کرنے کیلئے یہی ہے کہ ہم اپناتصوف مع قوالوں کے اوراپنی شاعری مع اس کے سوزوگداز کے اکسپورٹ کرین اورسائنس وٹکنالوجی درآمد کریں۔ کچھ ان لوگوںکی رفتار سست ہو، کچھ ہماری تیز ہو، جب برابرآجائین گے تو پھر سوچیں گے کہ اب کیاکرناہے۔حضرت حفیظ جالندھری نے فرمایاہے۔
ہاں ملے غیر کوبھی درد کی دولت یارب

".ایک میراہی بھلاہو مجھے منظور نہیں

ابن انشاء

گئے وقتوں کے سادہ لوگ

اگر عنوان پڑھ کر میری عمر کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں تو مت کیجئے ابھی تک ہم نے عمرِ عزیز کی کوئی تئیس بہاریں ہی دیکھی ہیں ہاں مگر اپنی عجیب و غریب باتوں کی وجہ سے بچپن ہی سے پروفیسر کہلانے لگا. صحت کے اجازت نہ دینے کی وجہ سے عمر کے پہلے دس سال کھیل کود سے پونے چوبیس میل دور ہی گزرے، شاید کتابیں پڑھنے کی عادت وہیں سے پڑی جو کسی نہ کسی طرح آج بھی جاری ھے. یہ عادت ایسی تھی کے اشتہارات اور پمفلٹس بھی نہیں بخشے جب کوئی کتاب یا رسالہ ہاتھ نہ آیا. خیر لکھنا کچھ اور تھا پر شاید مجھے بھی خودنمائی اور اپنی اچھی عادات کا دکھاوا قومی صنعتی نمائش کے پیمانے پر کرنا پسند ہے. لکھنا جو تھا اس کا کچھ حد تک تعلق میری ایک بری عادت سے ہے اور وہ ہے میری بدنام زمانہ یاداشت. بقول حلقہ احباب کام کی کوئی بات یاد نہیں رہتی عجیب عجیب ساری باتیں یاد رہ جاتی ہیں جوکہ بعد میں لطیفے کے طور پر سنانے کے کام آتی ہیں. خیر کہتے تو یار لوگ بھی درست ہیں یاداشت میں اس قسم کے پاٰےٌ جانے والے تضادات سے میں خود بھی عاجز ہوں ویسے بھی پنجاب یونیورسٹی میں ہمارے ایک استاد کا کہنا تھا کہ یادداشت کا ایک حد سے زیادہ تیز ہونا بھی نقصان دہ ہے کچھ باتیں بھول جانی چاہئیں. کسی بڑے کی بات کا اچھا اثر لینا تو شاید اپنے انسان ہونے کے خلاف جانے والی بات ہی لہٰذا اسکا اثر تو لیا مگر صرف اتنا کے کام کی باتیں یاد نہیں رہتیں کیوںکہ کچھ باتیں بھول بھی جانی چاہئیں.

 

(more…)

ہماری آج کی بہث و تکرار اور ہماری سیاسی روایات

کالج کے زمانے میں اْردو نامی بھی ایک مضمون پڑھایا جاتا ہے. پڑھایا تو یہ شاید اس لئے جاتا ہے کہ اپنی قومی زبان سے وابستگی کو مضبوط کیا جائے مگر جو رویہ ہمارا آج اس زبان کے ساتھ ہے کچھ ایسا ہی ان دنوں بھی تھا جب میں کالج میں حصول تعلیم کا شغل فرمارہا تھا. اس زبردستی کی مسلط کردہ اردو میں سر سید احمد خان کا مضمون "بحث و تکرار” پڑھنے کا اتفاق ہوا. مضمون میں خاکہ کھینچا گیا ہے کے کیسے بظاہر مہذب نظر آنے والی لوگ بحث و تکرار میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ دفعتاً ان دائروں سے باہر ہو جاتے ہیں جو تہذیب نے کھینچ رکھے ہیں،اس سارے عمل میں انسان بڑی کامیابی سے ڈارون کے اس نظریے کو کہ انسان پہلے جانور تھا تقویت بخشتے ہیں. ایک صدی سے زائد عرصہ قبل لکھا گیا یہ مضمون جسے میں نے لگ بھگ آٹھ برس پہلے پڑھا تھا ,مجھے آج بھی اپنے ذہن میں تروتازہ محسوس ہوتا ہے۔

(more…)

ٹیگ بادل