موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

کالج کے زمانے میں اْردو نامی بھی ایک مضمون پڑھایا جاتا ہے. پڑھایا تو یہ شاید اس لئے جاتا ہے کہ اپنی قومی زبان سے وابستگی کو مضبوط کیا جائے مگر جو رویہ ہمارا آج اس زبان کے ساتھ ہے کچھ ایسا ہی ان دنوں بھی تھا جب میں کالج میں حصول تعلیم کا شغل فرمارہا تھا. اس زبردستی کی مسلط کردہ اردو میں سر سید احمد خان کا مضمون "بحث و تکرار” پڑھنے کا اتفاق ہوا. مضمون میں خاکہ کھینچا گیا ہے کے کیسے بظاہر مہذب نظر آنے والی لوگ بحث و تکرار میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ دفعتاً ان دائروں سے باہر ہو جاتے ہیں جو تہذیب نے کھینچ رکھے ہیں،اس سارے عمل میں انسان بڑی کامیابی سے ڈارون کے اس نظریے کو کہ انسان پہلے جانور تھا تقویت بخشتے ہیں. ایک صدی سے زائد عرصہ قبل لکھا گیا یہ مضمون جسے میں نے لگ بھگ آٹھ برس پہلے پڑھا تھا ,مجھے آج بھی اپنے ذہن میں تروتازہ محسوس ہوتا ہے۔

گو کے یہ وہ دور ہے جہاں علم و دانش کے ایسے دریا بہہ رہے ہیں کہ اس دورکو "دورعلم” یا "انفارمیشن ایج” کہا جاتا ہے. آج کے اس دور میں بھی بحث و تکرار دیکھنے کو ملتی ہیں اور آج کے اس دور میں بھی جہاں ہم یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم گئے وقتوں کے لوگوں سے کہیں زیادہ پڑھ لکھ گئے ہیں وہیں ہمارا غصہ اور اس کے نتیجے میں ہمارا رویہ با لکل ویسا ہی ہے جیسا پہلے دور میں تھا، آج بھی تکرار کا آغاز زیادہ تر ان الفاظ کی ادائیگی سے ہوتا ہے جنہیں تہذیب نے گالی کا نام دیا ہے. اب دور چونکہ بدل گیا ہے، اب بحث و مباحثہ کے لئے بیٹھکیں نہیں سجا کرتیں، انٹرنیٹ کے اس دور میں سماجی روابط بھی انٹرنیٹ ہی کے محتاج ہیں اور بحث مباحثہ بھی. اب گالی لبوں سے تو نہیں مگر انگلیوں کی پوروں سے دی جاتی ہے۔

ہمارے ملک میں جہاں سیاست جنازوں اور سوئم کے موقوں پر بھی موضوع بحث ہوتی ہے وہاں سوشل میڈیا کو کیسے بخشا جا سکتا تھا. آپکی سیاسی معلومات یا یہ کہنا بہتر ہو گا سیاسی بصیرت گویا کیسی بھی ہو پرسیاست کے موضوع پر بحث آپ پر عین فرض ہے. یہ سیاسی تقسیم سوشل میڈیا پر واضح دیکھنے میں ملتی ہے اور اسکے نتیجے میں ہونے والی بحث و تکرار بھی. حالیہ کچھ عرصہ میں ایک قدرے نئی سیاسی جماعت اور اس کے حامی جو کہ جماعت کی طرح کم تجربہ کار ہیں خاصے بدنام ہو گئے ہیں. اس مخصوص شہرت کی وجہ وہ نا شائستہ زبان اور الفاظ کا استعمال ہےکہ جنکو آج کے "روشن خیال” دور میں بھی گالی کہا اور سمجھا جاتا ہے۔

جیسے کہ میں پہلےعرض کر چکا ہوں کہ اس طبقہ میں تجربہ نامی چیز کی کمی ہے، جب بھی کسی بھی شعبہ میں کوئی نیا شخص آتا ہے وہ پہلے سے موجود روایات اور مثالوں کی روشنی میں اپنا طریقه کار واضح کرتا ہے. بدقسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں موجود مثالیں کچھ اچھی نہیں، ہم میں سے کچھ کو اس ملک کے پہلے صدارتی انتخابات کے وہ جلسے جلوس بھی یاد ہوں گےجہاں ایک مخصوص جانور کے گلے میں لالٹین لٹکا کر مظاہرے کئے گئے. جی ہاں! لالٹین جو کے مادرملت فاطمہ جناح کا انتخابی نشان تھا. شائد ستر کی دہائی میں لگنے والا نعرہ "گنجا سر کےبل چلے گا، گنجے کے سرپرہل چلے گا” آج بھی کسی کو یاد ہو. ضیاء کے تاریک دور میں جہاں سیاسی تشدد اپنے عروج پر تھا اس رویے کی نئی مثالیں قائم ہوئیں. نوے میں جب جمہوریت بحال ہوئی تو سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکن اسی روش پر قائم رہے. اب نوے اور اس کے بعد کے دور میں بڑھنے والی نسل بدقسمتی سے انہی مثالوں کو دیکھ کر اس میدان میں آئی ہے. سیاسی کارکن اورانکی سیاسی سرگرمیاں سیاست کا حسن ہوا کرتے ہیں لیکن اس حسن میں گالیوں کی آمیزش، ہاتھا پائی، اور انتخابی دنوں میں ناجانے کہاں سے نازل ہونے والی ہڑبونگ وہ تیزاب ہیں کہ جس نے اس حسن کو جلا کر راکھ کر دیا ہے. آج ہمارے ہی ہاتھوں جلنے والا چہرہ بدنما لگ رہا ہے تو ہم اسکو دہتکار کیوں رہے ہیں۔

ماضی تو نام ہی گئے وقت کا ہے جو نہ تو واپس آ سکتا ہے اور نہ ہی اسکو تبدیل کیا جا سکتا ہے ہاں البتہ حال میں کی گئی محنت مستقبل کو بہتر بنا دیا کرتی ہے. اب شاید وہ وقت آ گیا ہے کہ کی گئی غلطیوں کا ازالہ کیا جاسکے وہ مثالیں قائم کی جائیں جو سیاست کے حسن کو بحال کر سکیں. میرے قائد اور تمہارے قائد کی لڑائی میں قائداعظم کے پاکستان کا جو حال ہم نے کر ڈالا ہے اسکو سدھارنا ہوگا. اب پورا ملک کسی ایک شخص کی ذمہ داری تو نہیں ہاں اگرہر کوئی اپنی اپنی لاش کی ذمہ داری اٹھائے اور اسکو پورا کرے تو یقینا وہ مستقبل حاصل کیا جا سکتا ہے جس میں گالیوں کا استعمال کم ہو. کچھ ایسی مثالوں کا بیج بونا ہوگا کہ جن کے سایہ داردرخت مستقبل کے مالیوں کو خاردار جھاڑیوں کی کاشت سے دور رکھے، نہیں تو جو مثالیں ہمارے پاس آج ہیں ان کے نتیجے میں ہمارے کل کی نشست وبرخاست ویسی ہی ہوگی کہ جسکا نقشہ سرسید نے اپنے صدابہار مضمون میں کھینچ ڈالا تھا۔

یہ تحریر ریولوشن فلیم کے لیے قلم بند کی گیٰ۔

Advertisements

Comments on: "ہماری آج کی بہث و تکرار اور ہماری سیاسی روایات" (5)

  1. بحث اس وقت تکرار میں بدلتی ہے جو ایک یا دونوں فریق دلیل کے ہتھیار سے محروم ہوتےہیں۔ دلیل کے لیے معروضی فکر اور علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور الا ماشاءاللہ ایسی چیزوں سے ہم بارہ کوس دور رہنا پسند کرتے ہیں
    عمدہ تحریر ہے۔ امید ہے کہ اردو میں اظہار خیال کرتے رہیں گے۔

  2. بہت بہت خوب!
    جتنی مطابقت اس معاملے کی آج کے "دور علم” میں ہے, اتنی تو شاید "دور قدیم” میں بھی نہ ہو!
    حیرانگی سے. وقت کے ساتھ تہزیب – ہ – تمیز اور ان کی اہمیت میں قدرے کمی ائ ہے, لیکن آپ کی یہ عمدہ تحریر پڑھ کر بہت اچھا لگا 🙂

  3. Very true, you got my words . Jo galiyan pehlay Jahil istamal kertay thay woh ab perhay likhay jahil use ker rahay hain . I can not stand that language at all.

  4. You know it was a real treat finding a blog in Urdu… Kee[ up the good work 🙂

  5. This is a good one. Really liked it and I agree to the thoughts here.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: