موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

اگر عنوان پڑھ کر میری عمر کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں تو مت کیجئے ابھی تک ہم نے عمرِ عزیز کی کوئی تئیس بہاریں ہی دیکھی ہیں ہاں مگر اپنی عجیب و غریب باتوں کی وجہ سے بچپن ہی سے پروفیسر کہلانے لگا. صحت کے اجازت نہ دینے کی وجہ سے عمر کے پہلے دس سال کھیل کود سے پونے چوبیس میل دور ہی گزرے، شاید کتابیں پڑھنے کی عادت وہیں سے پڑی جو کسی نہ کسی طرح آج بھی جاری ھے. یہ عادت ایسی تھی کے اشتہارات اور پمفلٹس بھی نہیں بخشے جب کوئی کتاب یا رسالہ ہاتھ نہ آیا. خیر لکھنا کچھ اور تھا پر شاید مجھے بھی خودنمائی اور اپنی اچھی عادات کا دکھاوا قومی صنعتی نمائش کے پیمانے پر کرنا پسند ہے. لکھنا جو تھا اس کا کچھ حد تک تعلق میری ایک بری عادت سے ہے اور وہ ہے میری بدنام زمانہ یاداشت. بقول حلقہ احباب کام کی کوئی بات یاد نہیں رہتی عجیب عجیب ساری باتیں یاد رہ جاتی ہیں جوکہ بعد میں لطیفے کے طور پر سنانے کے کام آتی ہیں. خیر کہتے تو یار لوگ بھی درست ہیں یاداشت میں اس قسم کے پاٰےٌ جانے والے تضادات سے میں خود بھی عاجز ہوں ویسے بھی پنجاب یونیورسٹی میں ہمارے ایک استاد کا کہنا تھا کہ یادداشت کا ایک حد سے زیادہ تیز ہونا بھی نقصان دہ ہے کچھ باتیں بھول جانی چاہئیں. کسی بڑے کی بات کا اچھا اثر لینا تو شاید اپنے انسان ہونے کے خلاف جانے والی بات ہی لہٰذا اسکا اثر تو لیا مگر صرف اتنا کے کام کی باتیں یاد نہیں رہتیں کیوںکہ کچھ باتیں بھول بھی جانی چاہئیں.

 

کچھ روز پہلے دوستوں کے ساتھ جاری خوش گپوں میں ایک واقعہ یاد آ گیا ہماری خوشگپیں چوںکہ اکژاب ایک سو چالیس حروف کی محتاج ہو چکی ہیں تو وہاں اسکا ذکر نہ ہو سکا مگر واقعہ یاد آیا تھا تو لطیفے کا ضائع ہونا اپنے سے برداشت نہیں ہوتا لہٰذا میں تو سنا دیتا ہوں سننے والا برداشت کرے نہ کرے اسکی صوابدید پر ہے.

اگر قلم دعوات سے لکھے گئے ہمارے خاندانی شجرہ نسب جو کہ آجکل کمپیوٹر پر منتقل اور نئے اندراجات سے گزر رہا ہے کو درست مان لیا جاے تو اپنی لڑیاں راجھستان میں جودھ پور جا پہنچتی ہیں. اپنے بڑوں سے معذرت کے ساتھ  لکھنے کی جسارت کر رھا ہوں کہ جب راج کے جانے کے بعد خالی پوت رہ گئے تو ریاست چھوڑنا پڑی اور فیصل آباد کے ایک  نواہی گاؤں میں میرے بزرگ آن بسے. آخری بار اپنے ابای گاؤں  دس سال پہلے جانا ہوا خیر گاؤں سے نکلی تیسری نسل کم ہی آبائی گاؤں سے تعلق استوار رکھتی  ہیں.

 یادوں کی بارات جس واقعہ کی طرف لے گئی وہ کوئی ١٥ سال پہلے کا ہے. ایک عدد شادی کی وجہ سے ہم بمع اہل و عیال گاؤں پوہنچنے. گاؤں کے اس دورے میں میرا سارا وقت تو نئے بنے دوستوں کے ساتھ گزرا جو کسی نہ کسی اعتبار سے رشتےدار بھی تھے، اور یہ بے سمت ٹولہ گاؤں کے سادہ طبیعت لوگوں کی سادگی کا مذاق بنانے کے مشن پر ہمہ وقت تیار رہتا. یوں تو ہم نے کیا بڑا کیا چھوٹا کسی کو بھی نہیں بخشا لیکن ان دنوں گاؤں میں ایک مجذوب ہوا کرتا تھا عمر کچھ زیادہ نہیں تھی اسکی، لیکن ذہنی طور پر پنجابی والا سائیں ہی تھا ھمارے مذاق کا بار بار نشانہ بنا. کس قدر فضول حرکت تھی یہ اسکا احساس کچھ سال بعد ہوا، شاید تب جب گاؤں کے قبرستان میں ایک بار اسی سائیں کی قبر دیکھی اور ساتھ ہی وہاں پر بندھے سبز جھنڈے بھی، بیچارے کی خطا شاید مر کے بھی معاف نہ ہوئی.

بارات نے بہاولپور جانا تھا جو کے جغرافیائی اعتبار سے فیصل آباد سے خاصا دور ہے اس بارات میں جانے والی ٹیم کا جب اعلان ہوا تو اس میں اپنا نام نہ تھا سنا ہے کہ اس لمبے سفر کے دوران کئی دلچسپ واقعیات ہوئے جو کہ بعد میں اپنے چچا سے سنے میں انکو یہاں نقل اس لئے نہیں کرسکتا کہ ایک تو انکو سننے کا مزہ چاچو سے ہی آتا ہے دوم جو فرہنگ اسکو لکھنے کے لئے درکار ہے وہ خاصی غیر مناسب ہو جائے گی.

لیکن ایک واقعہ میرے سامنے کا ہے جسے آج بھی سوچ کر میں خوب محظوظ ہوتا ہوں اور گئے وقتوں کے سادہ لوگوں کی زندگی پر رشک سا محسوس کرتا ہوں. بہاواپور کے کامیاب دورے کے بعد ٹیم واپس آگئی اور اگلے روز تھا ولیمہ جوکہ اپنے لئے تو شادی کی سب سے بڑی قابلِ توجہ رسم ہوتی ہے.  شادی کے کھا نے پر پابندی ان دنوں نئی نئی وارد ہوئی تھی لیکن اکثر گاؤں اس قسم کے قوانین کے معاملے میں  حکومتی رٹ چیلنج کر جاتے ہیں.

اب ساری داستان کے لکھنے پیچھے واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں اپنے چاچو کے ساتھ بیٹھا ان کا سفر نامہ براے بہاولپور سن رہا تھا تاکہ وقت کٹ سکے جو کہ اکثر مشکل کام ہوتا ہے مہمان آچکے بلکہ اکثر ایک دوسرے کی شکل سے اکتانے بھی لگے تھے. لیکن کھانا کھلنے کا نام ہے نہیں لے رہا تھا، وہ وقت آ گیا تھا کہ سب نے پوچھنا شروع کر دیا کہ بھائی کھانا ملنا بھی ہے یا نہیں.

 گاؤں  میں ایک کردار "باؤ” مجھے ابھی بھی یاد ہے اور یاد رہ جانے کی بڑی وجہ اسکی سادہ گفتگو ہے. باؤ صاحب اٹھے کہ میں پتا کر کے آتا ہوں کہ کیا ماجرہ ہے. ہمارا اندرونی جاسوس بھی ٹک کے نہ بیٹھ سکا اور ہم بھی نکلے سراغ لگانے لمبی چوڑی تفتیش نہیں کرنی پڑی کیوںکہ تقریب کے آغاز کے لئے دلہن کا انتظار ہو رہا تھا جو کہ تیار ہونے بیوٹی پارلر گئی ہوئی تھیں. شاید یہ ہمارے گاؤں کی شادیوں سے متعلق تاریخ کا پہلا واقعہ تھا لہذا باؤ صاحب کو جو کچھ سمجھ میں آیا انہوں نے اس کو اپنی سادہ زبان میں دوسروں کو جا کر بتلا دیا.پنڈار میں داخل ہوتے ہی اعلان داغ دیا، ” میں پتا کیتا تے او کنڈے نے کے ووٹی حمام تے گئی اے تیار ہون” (میں پتا کر کے آیا ہوں، وہ کہتے ہیں کہ دلہن حمام پے تیار ہونے گئی ہے).

اس ایک جملے نے جہاں سب کوقہقہوں پر مجبور کر دیا میرے ذہن پر ایک سادگی کی ایک چھاپ چھوڑ دی. جوآج بھی موجود ہے آج بھی اس واقعہ کو یاد کر کے مسکرا دیتا ہوں اور گئے وقتوں کے سادہ لوگوں کی سادگی پر رشک کرنے لگتا ہوں. آج کی تیز زندگی اور اس کے جھوٹے سپنوں کی کاری ضرب نے ایسی تقسیم ڈالی ہے کہ زندگی سے سادگی نامی چیز یکسر ختم ہو گئی ہے. اب اگر سادگی ہے تو صرف ماضی کی یادوں میں حال میں تو ہڑبونگ ہی ہے کبھی نہ تھمننے والی.

Advertisements

Comments on: "گئے وقتوں کے سادہ لوگ" (6)

  1. عمدہ جی
    پر آپکا املا تو میرے سے بھی گیا گزرا ہے رائے صیب

    • اردو کوئی ۸ سال بعد لکھ رھا ہوں اس پر ٹائپنگ ابھی لکھ کر سیکھ رھا ھوں۔اوے ہوے آپ تو اس طرف سے والے علی نکلے آپکے پڑھنے کا شکریہ

  2. Nice post, Azlan. Very interesting! Remind me on twitter and I ll tell you the things I didnt like about it. Critical analysis zaroori hai

  3. بس جی ، ہم نے تو وہ پرانا زمانہ نہیں دیکھا ، ہم تو شہر سے گاوں گئے تھے ایک دفعہ اور گاوں والوں نے ہماری سادگی کا مذاق اڑایا ۔۔ بس جی بیان بھی نہیں کر سکتے ۔

  4. ہاہاہا۔۔۔۔ بہت خوب، اس طرح کے درجنوں واقعات اس ذہن میں بھی تازہ ہیں۔ کبھی موقع ملا تو ضرور پیش کروں گا۔
    ویسے املا کے حوالے سے پریشان مت ہوں، یہ آہستہ آہستہ درست ہوتا جائے گا۔ اس حوالے سے کچھ ٹولز بھی بتاتا ہوں آپ کو۔

  5. اگر ماجرے کو جان بوجھ کر مُجرا لکھا ہے تو ویری گُڈ اور اگر مِس ٹائپ ہوگیا ہے تو ایکسیلینٹ کیونکہ سب سے زیادہ ہنسی مُجرے پر آئی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: