موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

Archive for اگست, 2012

فیصل آبادیاں” – با حفاظت سفر”

یہ ایک سلسلہ ہے جہاں میں اپنے مشاہدات تحریر کروں گا اپنے پسندیدہ شہر فیصلآباد کے بارے میں یہ پسندیدہ کیوں ہے یہ تحریروں میں کھل کر سامنے آ جائے گا. سو لیجیے پہلی قسط
گاڑی جیسے ہی فیصلآباد کی حدود میں داخل ہی چاہچو نے سلواتیں سنانا شروع کر دیں جو کہ انکی عادت ہے. فیصلآباد سے ایک خاص قسم کی چڑ ہے چاچو کو جبکہ مجھے  ایک انس ہے اس شہر سے بھائی اپنی اصلی والی جا ئے  پیدائش بھی ہے اور جب تک  نانا نانی زندہ  تھے تو اپنا ننہال بھی تھا کسی شاعر نے بھی کیا خوب کہا ہے
اک شخص کیا گیا ہے مرا ساتھ چھوڑ کر
میں ہو گیا ہوں اجنبی آبائی شہر میں۔
Advertisements

کاش آج میں اپنے دیس میں ہوتا

جب بھی پردیس میں عید آتی ہے
یاد اپنے دیس کی بہت آتی ہے
جب عید پڑھ کے لوٹتا ہوں
میں اپنے سنسان کمرے میں
یاد اپنے گھر کے دہلیز آتی ہے
جہاں جب میں عید پڑھ کے آتا تھا

(more…)

ہوا تیرے گھر کا مہمان اے مولا – حمد

میں اردو شاعری کہنے کی معاملے میں مکمل طور پر اناڑی ہوں پھر فی اعتکاف کے دوران ایک شب فرط جذبات میں یہ چند بے ربط اور بے وزن سطریں لکھ ڈالیں اور خود پسندی میں انکو ایک نظم کا نام دے دیا. بے وزن سہی پر دل سے نکلی تھیں یہ سطور لہٰذا سوچا کہ یہاں پر یعنی اس بلاگ پر محفوظ کر لیتا ہوں کہ سند رہے

image

(more…)

ٹیگ بادل