موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

یہ ایک سلسلہ ہے جہاں میں اپنے مشاہدات تحریر کروں گا اپنے پسندیدہ شہر فیصلآباد کے بارے میں یہ پسندیدہ کیوں ہے یہ تحریروں میں کھل کر سامنے آ جائے گا. سو لیجیے پہلی قسط
گاڑی جیسے ہی فیصلآباد کی حدود میں داخل ہی چاہچو نے سلواتیں سنانا شروع کر دیں جو کہ انکی عادت ہے. فیصلآباد سے ایک خاص قسم کی چڑ ہے چاچو کو جبکہ مجھے  ایک انس ہے اس شہر سے بھائی اپنی اصلی والی جا ئے  پیدائش بھی ہے اور جب تک  نانا نانی زندہ  تھے تو اپنا ننہال بھی تھا کسی شاعر نے بھی کیا خوب کہا ہے
اک شخص کیا گیا ہے مرا ساتھ چھوڑ کر
میں ہو گیا ہوں اجنبی آبائی شہر میں۔
میرے لئے واقعی شہر اجنبی ہو گیا آنا جانا کئی بار ہوا لیکن وہ اپنایت نہ محسوس ہوئی جو کبھی ہوا کرتی تھی. خیر بات ہو رہی تھی چاچو کی سلاوتوں کی جنکی وجہ مجھے کبھی بھی پتا نہ چل سکی کہ انکا سسرال بھی ہے اور آبائی گاؤں بھی اسی شہر میں آتا ہے مگر پھر بھی چاچو کو کیا بیر ہے اس شہر سے. خیر جان کی امان پاتے ہی میں نے ایک سوال داغا "چاچو آج بتا ہی دیں کہ آخر آپکو کیا مسئلہ ہے اس شہر سے؟” چاچو نے گاڑی چلاتے چلاتے ایک اعدد گھوری سے ہمیں نوازا اور کہا "بیٹا جی فیصل آباد شروع ہو گیا ہے ابھی ایسا ایسا نمونہ دیکھنے کو ملے گا کہ پتا چل جے گا آپکو”. ابھی یہ الفاظ ان کے منہ سے نکلے ہی تھے کہ ایک  بھائی صاحب سر پر ہیلمٹ چڑھا ئے پیدل سڑک پر چل رہے تھے. اور چاچو نے انگریزی میں جو کہا اسکا ترجمہ یہ ہے کہ، "اس گدھے کو دیکھو اور بتاؤ کہ کوئی ہے اس شہر کا کام سیدھا جو چیز سواروں کے لئے ہے وہ پیدل استعمال ہو رہی ہے”. دل میں ہم نے بھی ان بھائی صاحب کو کافی سنا ڈالیں کہ اس با حفاظت سفر کا مظاہرہ کسی اور وقت نہیں کر سکتے تھے. یہ تھی ایک اعداد فیصلبادی جو اپنے ذھن میں قید ہو گئی اور کی فیصلابدیاں جو ہم نے اکٹھی کر رکھی ہیں ان میں شامل ہو گئی.
وہ دن شروع تو ایک عام دن کی طرح ہی تھا اور یہ واقعہ بھی کوئی غیر معمولی نہیں مگر اس دن کا اختتام بہت برا ہوا تھا. اس دن سے ہم سب پاکستانیوں کی کسی نہ کسی طرح یادیں وابستہ ہیں. یہ دن تھا ستائیس دسمبر ٢٠٠٧. شام کو جب "بڑی” خبر پھل گئی تو جو کچھ ہمارے ملک کی سڑکوں اور چوراہوں پر ہوا اس سب میں سے ہوتے ہوے فیصل آباد سے لاہور گھر واپس آنا ایک علیحدہ کہانی ہے جو کہ کبھی بھی بیان نہ ہو پاۓ گی. ہاں ایک سچ اپنی جگہ قائم ہے کہ کوئی بھی دن عام نہیں ہوتا اور وقت کبھی بھی ایک سا نہیں ہوتا وہ سفر جس کے ایک حصے میں آپکو ہنسنے کا سامان مل جے اس کے دوسرے حصے میں کچھ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو آپکو اور آپکے عصاب کو ایک بار ہلا کر رکھ دے. یہ وقت او یادیں بھی نہ بہت کمینی چیزیں ہیں.
Advertisements

Comments on: "فیصل آبادیاں” – با حفاظت سفر”" (4)

  1. آپ کی تحریر بہت عٰمدہ ہے۔ جناب میرا تعلق بحی اِسی شہر سے ہے اور اِس شہر جا کر میری حالت بحی ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسی آپ نے اپنے چچا کی بتائی ہے۔

  2. well done

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: