موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

Archive for اکتوبر, 2012

حوالہ

کمینے شخص کا احسان

اگر کمینہ شخص سو من سونا بھی دے اور یہ بھی کہے کہ اس سو من سونے کے معاوضہ میں صرف جو کے ایک دانے کا احسان قبول کر لو تو سو من سونے کو قبول کرنے سے انکار کر دینا تاکہ کمینے شخص کے ایک  جو کا بھی احسان نہ لینا پڑے۔

(حافظ شیرازی)

پاک-بھارت مینجمنٹ سمت کے مشاھدات – لاہور ڈائری

ستمبر کے وسط میں مجھے دو سال بعد پاکستان جانے کا موقع ملا، یہ یقینا ایک خاصہ جزباتی موقع تھا۔ گھر سے دور اتنا لمبا عرصہ رہنے کے بعد دوبارہ گھر جانا ایک نہ قابل بیان چیزوں میں سے ایک ہے. شروع میں جو دو ہفتے کی چھٹی بہت معلوم ہو رہی تھی جب گذرنے پر آئی تو شاید پلک جھپکنے کا موقع نہ ملا. گھر والوں کے ساتھ وقت گزرانا دوستوں عزیزوں کو ملنا اور جان کو سب سے بری طرح لاحق ہونے والا عذاب شاپنگ وقت کو جلد ختم کرنے کو کافی تھا. دو ہفتوں کا وقت تو جھٹ پٹ گزر گیا مگر کچھ واقعات ایسے ہوئے جنکو اپنی یاداشت کے لئے لکھ رہا ہوں، کچھ وقعات ایسے بھی ہیں جو "شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات” والے مصرے سے رشتہ داری رکھتے ہیں.

٢٠ اور ٢١ ستمبر کو لاہور میں پاک بھارت مینجمنٹ سمت منعقد ہوئی جسکا اہتمام نٹ شیل فورم نے کیا تھا گو کہ میڈیا پر اسکے انعقاد کا سارا کریڈٹ امن کی اشا نے ہی وصول کیا. خیر امن کوئی اتنی بھی بری چیز نہیں ہے کہ جہاں اس کے ساتھ اشا کا ذکر آئے تو تیوریاں بدل لی جائیں. کچھ ایسا سوچ کر ہی میں نے اس سمت میں بطور رضا کار حصہ لینے کی حامی بھری کچھ یہ بھی امید تھی کے لگے ہاتھوں کچھ نیٹورکنگ بھی ہو جائے گی کو سماجی روابط بس انٹرنیٹ تک محدود کرنا ایک بونگی ہے اور وہ بھی شدید والی.

(more…)

ملالہ یوسف زئی: پاکستان کی این فرینک

انیلیس میری فرینک جو کہ این فرینک کے نام سے مشور ہے 12 جون 1929 کو جرمنی میں پیدا ہی. 1933 میں جب نازیوں نے جرمنی کا اقتدار سمبھالا تو بہت سے دوسرے یہودی خاندانوں کی طرح فرینک فیملی نے بھی ہالینڈ میں پناہ لی. لیکن نازی ایک بھیانک خواب کی طرح پیچھا کرتے رہے اور 1942 میں ہالینڈ بھی نازیوں کے قبضے میں آگیا. یوں نازیوں کی یہودیوں پر جبر کا ایک نیا باب شروع ہوا، این فرینک کو برگن بیلسن کی ارتکازی کیمپ بھجوا دیا گیا جہاں 1945 میں تقریبا 16 سال کی عمر میں این فرینک کا انتقال ہو گیا. این فرینک کا باپ اوٹو فرینک خاندان کا واحد زندہ بچنے والا فرد تھا. اوٹو جب واپس ہالینڈ آیا تو اسے این فرینک کی ڈائری ملی جس میں این فرینک نے جون 1942 سے لے کر اگست 1944 تک کی آپبتی درج تھی، جو کہ بعد میں انگریزی زبان میں 1952 میں "دی ڈائری آف اے ینگ گرل” کے نام سے شائع ہوئی. بن میں اسپر کئی فلمیں اور ۔ڈرامے بھی بننے، اس ڈائری کی کی وجہ سے این فرینک کا شمار بہت زیادہ زیر بحث آنے والے متاثرین ہالوکاسٹ میں کیا جانے لگا۔

(more…)

ٹیگ بادل