موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

انیلیس میری فرینک جو کہ این فرینک کے نام سے مشور ہے 12 جون 1929 کو جرمنی میں پیدا ہی. 1933 میں جب نازیوں نے جرمنی کا اقتدار سمبھالا تو بہت سے دوسرے یہودی خاندانوں کی طرح فرینک فیملی نے بھی ہالینڈ میں پناہ لی. لیکن نازی ایک بھیانک خواب کی طرح پیچھا کرتے رہے اور 1942 میں ہالینڈ بھی نازیوں کے قبضے میں آگیا. یوں نازیوں کی یہودیوں پر جبر کا ایک نیا باب شروع ہوا، این فرینک کو برگن بیلسن کی ارتکازی کیمپ بھجوا دیا گیا جہاں 1945 میں تقریبا 16 سال کی عمر میں این فرینک کا انتقال ہو گیا. این فرینک کا باپ اوٹو فرینک خاندان کا واحد زندہ بچنے والا فرد تھا. اوٹو جب واپس ہالینڈ آیا تو اسے این فرینک کی ڈائری ملی جس میں این فرینک نے جون 1942 سے لے کر اگست 1944 تک کی آپبتی درج تھی، جو کہ بعد میں انگریزی زبان میں 1952 میں "دی ڈائری آف اے ینگ گرل” کے نام سے شائع ہوئی. بن میں اسپر کئی فلمیں اور ۔ڈرامے بھی بننے، اس ڈائری کی کی وجہ سے این فرینک کا شمار بہت زیادہ زیر بحث آنے والے متاثرین ہالوکاسٹ میں کیا جانے لگا۔

نازی جرمنی ہو، ہالوکاسٹ ہو، یا عالمی جنگ یہ سب اب تاریخ کا حصہ ہے، لیکن ظلم، جبر، اور درندگی وقت اور نام کی محتاج نہیں ہوتی. ان سب میں کچھ اقدار مشترک ہوتی ہیں جیسے کہ عدم برداشت، تعصب، اور کٹر رویہ. چاہے 40 کی دہائی ہو کہ جس میں ظلم اور جبر کا نام نازی جرمنی تھا یا اکیسویں صدی ہر دور میں کوئی نہ کوئی این فرینک موجود ہوتی ہے جو آواز بن کر ان بیجوں کی داستان گوئی کرتی ہے کہ جنکو ظلم اور جبر بویا کرتے ہیں. جیسے ظلم کے کئی نام ہوتے ہیں اسی طرح اس آواز اور اس داستان کے بھی مختلف نام ہوتے ہیں چا ہے وہ این فرینک کی ڈائری آف ینگ گرل ہو یا ملالہ یوسفزئی کی "گل مکائی”۔

ملالہ یوسفزئی ایک 14 سالہ سماجی کارکن جس نے اپنی جدوجہد کا آغاز ١١ سال کی عمر میں تب کیا جب وادی سوات پر طالبان کا قبضہ تھا . اس ظلم و جبر کے دور میں ملالہ نے واقعات کو ایک ڈائری میں مرتب کرنا شروع کیا۔ یہ ڈائری بعد میں بی بی سی اردو پر شائع ھوئی۔ کل ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی اور اس حملے کی وجہ اس پراپگنڈہ کو قرار دیا گیا کو جس کا پرچار ملالہ کر رہی تھی. یعنی اب ہم اس دور کا حصہ ہیں جہاں علم حاصل کرو، اور علم سیکھو اور سکھاؤ  کی بات کرنا منفی پراپگنڈہ قرار پاتا ہے. تنزلی کا عالم یہ ہے کہ ایک 14 سالہ بچی پر اس لئے حملہ کیا جاتا ہے کہ اس نے ظلم کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرات کی، اس پر اس لئے حملہ کیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو زیور تعلم سے آراستہ کرنا چاہتی تھی،  باقاعدہ سیاست میں حصہ لینا اور پاکستان کو مشکلات سے باہر نکالنا اس کا عزم تھا۔ شاید ملالہ کے لئے ہی حبیب جالب نے کہا تھا؛

ڈرتے ھیں بندوق والے نیہتی لڑکی سے

پھیلے ہیں ہمت کے اجالے ایک نیہتی لڑکی سے

آزادی کی بات نا کر، لوگوں سے نہ مل”، یہ کہتے یہں“

بے حس، ظالم، دل کے کالے، ایک نیہتی لڑکی سے۔

ہمارے ملک میں جہاں پرامن شہروں میں خاتون کی زندگی ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتی وہیں ایک مصائب میں گھری وادی میں ایک11  سالہ بچی کا جدوجہد کا آغاز کرنا سچ میں ایک جراتمندانہ قدم تھا. لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ہمارا رویہ کیا رہا اب جب ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہو چکا تو ہمارا رویہ وقتی اظہار ہمدردی اور اس کی صحتیابی کے لئے دعاؤں کی علاوہ ہے کیا. کیوں ہمیشہ ہمیں جاگنےکے لئے ایک آفت ہے درکار ہوتی ہے، مگر ہم وہاں بھی صبر نہیں کرتے کیوں کہ اس سے پہلے اس آفت کے اثرات ختم ہوں ہم دوبارہ سب بھول بھال کر سو جاتے ہیں۔

وہ جنکو طاقت اور حکومت ملی قوم سے ملالہ کی صحتیابی کے لئے دعاؤں کی گزارش کر کے اپنے فرض سے ادا ہو رہے ہیں. جب کہ سوال یہ ہے کہ کیا ملالہ سمیت قوم کے ہر فرد کی حفاظت کی ذمداری کس کے سر عائد ہوتی ہے. یہ بیحد آسان ہے کی میڈیا پر آ کر دعاؤں کی درخواست اور مذمتی بیانات جاری کیا جائے، بحیثیت قوم ہم دعائیں کر رہے ہیں مگر جو طاقت اور حکومت کے حامل ہیں وہ اس کا صحیح استمال کب کریں گی؟ کیا ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ایک دن ہم سب کا حال ملالہ جیسا ہی ہو. ذمداری اور افسوس کی ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہی ھمارے ماشرے کا اصل چہرہ ہے انتہائی بے حس اور لاپرواہ۔

ہماری بے حسی کا حال یہ ہے ک سیاسی جماتیں اس حادثے پر ہمیشہ کی طرح سیاست کو چمکا رہی ہیں، اور ہم پڑھی لکھی سمجھدار سول سوسایٹی اس بحث میں مبتلا ہیں کہ کس سیاسی رہنما نے کس کی مذمت کی اور کس کی مذمت در حقیقت درکار تھی. کیونکہ ھمارے لئے ایسی بحث تقریبا مذہبی عقیدت و احترام کا درجہ رکھتی ہیں. ہم سب ٹاک شوز کے مرچ مسالوں میں گم ہیں وہاں ملک کا حال یہ ہے کہ ایک14 سالہ بچی سے دشمنی نکالی جا رہی ہے.

وہاں جہاں میں اس ساری بحث جو کہ بڑی حد تک بکواس کا درجہ رکھتی ہے اوراس فضول سیاسی کھیل کو دیکھ کر کڑھ رہا ہوں وہیں میں ملالہ یوسفزئی کی صحتیابی کے لئے دعاگو بھی ہوں کیونکہ باقی معاشرے کی طرح میری دوڑ بھی اس دعاؤں کی مسجد تک ہی رہ گئی ہے. مجھے امید ہے کہ اس حملے والی بزدلی جو ملالہ کا راستہ روکنے کے لئے کی گئی ہے وہ ملالہ کے عزم اور ہمت کو نقصان نہیں پہنچا سکے گی.

Advertisements

Comments on: "ملالہ یوسف زئی: پاکستان کی این فرینک" (2)

  1. پوری قوم نے احتجاج کیا۔اور پاکستان کاوہ طبقہ جو ہمیشہ
    دہشت گردو ن کی ہمایت کے لیے روایتی فلسفہ دھراتا تھا ناکام ہوا۔
    ورنہ وہ کہتا اس میں امریکی شازش ہے
    پاکستان کی اجنسیاں ملوث ہیں
    حکومت نے کرایا ہے
    اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے
    طالبان اتنے ظالم نہیں ہیں
    طالبان نے ملالہ پر حملہ کرنے کے فورا بعد
    زمداری بھی قبول کر کے

    وہ نام نہاد اسلام کے ٹھکہ داروں اور مزہبی جنونیت کے حامل
    تخلیقی صلایتوں سےمحروم نام کا پڑا لکھا اور غورو فکر سے
    عاری طالبان اور مزہبی جماعتوں کی ہمایت میںلھکنے اور بولنے والوں کے زہنوں اور دل ودماغ میں تالا لگا کر

    یہ واضع کردیا کہ
    ایسا ظلم دنیا میں صرف طالبان کرسکتے ہیں

  2. […] پہچانی لگی جب غوری صاحب کو شکل کرائی تو معلوم ہوا کہ ملالہ یوسف زئی کے والد صاحب ہیں. جب تقریروں کا سلسلہ ختم ہوا اور سٹیج […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: