موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

کتب بینی اور ہم

بشکریہ اینیکسل سٹوڈیو

کتب کے ساتھ اپنی دوستی بارے جب بھی یاداشتوں کی خاک چھاننے کی کوشش کرتا ہوں تو گھوم پھر کے یاد آتا ہے کی بہت پرانی ہے اتنی پرانی کہ اس وقت کے سائیکل اور موٹر سائیکل بھی اب شاید نہ چلتے ہوں. جب بھی بچپن کی یادوں میں سے اپنے کھلونے وغیرہ یاد کرتا ہوں تو دماغ میں کھلونوں کے ساتھ وہ رنگ برنگی کتابیں بھی آجاتی ہیں جو شروع سے ہی میرا پسنددہ مشغلہ رہیں. کتابوں سے اس لگاؤ کو جہاں مورثی سمجھا جا سکتا ہے وہاں میں ذاتی طور پر اسکا کریڈٹ اپنی بیماری کو بھی دوں گا جس نے زندگی کے پہلے چند سال مجھے زیادہ کھیلنے کودنے نہ دیا اور وقت گزاری کے لیے میرے پاس بچا تو کاغذ اور کتابیں. جب بیماری سے جان چوٹی تو کھیل کود کی طرف آ گیا اور رفتہ رفتہ کتابوں سے دور ہوتا گیا. کبھی سال میں ایک آدھ کتاب پڑھ لی کبھی سالوں توفیق نہ ہوئی. کتب کے ساتھ ٹوٹا ہوا سلسلہ کچھ حد تک پنجاب یونیورسٹی میں بحال ہوا مگر ہر تین ماہ میں امتحانات کی وجہ سے یہ سلسلہ کچھ بڑھتا اور پھر اپنے مضامین کی کتب تک آ کر رک جاتا۔
دو برس قبل جب ہم اعلی تعلیم کے نام پر ملک بدر ہوئے تو اس ملک میں ایک چیز دیکھنے کو بار بار ملی اور وہ تھی یہاں موجود لوگوں میں کتاب دوستی۔ بس میں ٹرین میں سٹی سنٹر میں لگے بنچ پر ایسا کبھی بھی نہ ہوا کہ کم از کم ایک شخص بھی مجھے بغیر کتاب کے نظر آیا ہو. یہاں کی لائبریریاں بھی مجھے کبھی خالی نہ ملیں کتب کی دکانوں پر بھی میں نےرش ہی پایا. سفر کے دوران ہم لوگ ساتھ بیٹھوں سے گفتگو شروع کرنے کے شوق میں “آج موسم کتنا اچھا ہے” کا سہارا لیتے ہیں کہ وقت اچھا گزر جائے یہاں وقت گزاری کے لئے بہت سے لوگ کتابوں میں کھو کر سفر کا وقت گزرتے ہیں. کسی کے پاس جدید ای ریڈر ہے تو کوئی ٹیبلٹ پر محو مطالعہ ہے اور کچھ مجھ جیسے روایت پسند دقیانوسی لوگ اب بھی کاغذ کی بنی کتابوں میں گم ہیں. برطانوی لوگوں کی اس عادت کا امریکی کافی مذاق بھی آڑاتے ہیں انکا کہنا ہی کہ یہ برٹش لوگوں کا مغرور رویہ ہے کہ وہ دوسروں سے بات نہیں کرنا چاہتے اسی لیے دکھاوا کرتے ہیں کہ کتاب پڑھ رہے ہیں. خیر ہم بھی کب تک کانِ نمک میں رہ کر نمک ہوئے بغیر رہ سکتے تھے بچپن کی دوستی نے اپنا کمال دکھانا لگایا اور ہم ایک بار پھر کتابوں کے سحر میں آ گیے. جہاں پچھلے کچھ سالوں میں بلا وجہ انٹرنیٹ کے استعمال سے وقت کی بے برکتی کا رونا روتے رہے دوبارہ کتابوں کی طرف آیا تو اندازہ ہوا کہ ابھی پڑھنے کو کیا کچھ باقی ہے. اور کتب بینی نے وہ وقت جو برباد ہو جایا کرتا تھا کا ایک اچھا مصرف پیدا کر دیا۔ 
میں اکثر یہاں کے ماحول کی اچھی باتوں کو اپنے ہاں کے ماحول کے مقابلے میں کھڑا کر کے سوچا کرتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ یہ قوم ہم سے آگے ہے اور ہم اس گلوبل ولج کے زمانے میں بھی انکی اچھی عادات سے کچھ نہیں سیکھ سکے. اور ہر بار کوئی نہ کوئی وجہ سامنے آ ہی جاتی ہی جس سے سبق بھی مل جاتا ہی اور سچ مانوں تو کچھ شرمندگی بھی ہوتی ہے، یہ کتابوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے. جہاں مجھے اس ملک میں جس کی آبادی ہم سے کہیں کم لائبراریاں اور کتب خانے بھرے ہوئے ملتے ہیں وہاں مجھے اپنے ملک کی لائبریریوں میں انسانوں سے زیادہ مکھیاں ہی دیکھنے کو ملیں کتب دکانوں میں کتابیں تو موجود ہیں مگر خریدار اکا دکا. تفریح کے نام پر عجیب و غریب چیزوں کو تو ہم نے ثقافت کہہ کر گلے لگا لیا مگر وہ جو ثقافت کو سمجھنے اور ذہنی شعور کو تقویت دینے کا ذریعہ ہیں ان سے ہم نے کنارہ کشی کی راہ لی. الزام دیا زندگی کی مصروفیت کو جب کے بے جا اس کو مصروف ہم نے خودطرح طرح کی خرافات میں الجھا کر کیا ہے۔ کتاب ہمارے لئے ایک بوجھ اور اکتاہٹ کا سامان بن گئی ہے جب کہ اسی کتاب سے دوری نے ہماےی مقام کی جو حالت کر دی ہے وہ ہمارے سامنے ہے. ہمارے ہاں بلا وجہ کی بحث کو تو عقیدت کی حد تک کے ذوق سے دیکھا سنا جاتا ہے کیوں کہ تہذیب کی جوحالت ہو گئی ہی اس کے بعد ہمیں بلا وجہ کی تکرار دیکھنے میں ہی مزہ آتا ہے جب کہ تکرار کی روح جسے منطق اور دلیل کہتے ہیں اس کے ماخذ کتاب سے ہم نے اپنے آپ کو دور رکھ لیا ہے. ہمیں خوش گپوں میں وقت برباد کرنے کا کوئی افسوس نہیں ہوتا ہاں مگر کوئی شخص اگر تھیلا بھر کر کتب خرید لے تو اسئ یار لوگ یہ کہ کر تعنہ دیا جاتا ہی کو “بڑا وقت اے بھئی تیرے پاس”۔
رونا پھر سے وہی ہے کہ حالات جس حد تک بگڑ چکے ہیں انکو ٹھیک ہونے میں پوری ایک نسل یعنی بیس سال کا عرصہ درکار ہے۔ کتاب ایک بوجھ نہیں ایک شغل ہے ایک دوست ہے جو کبھی بھی بور نہیں کرتا بری بات بھی اچھے انداز میں کہہ جاتا ہے اور ہمیں اس وقت اس دوست کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے. جہاں دن بھر ہم طرح طرح کے جھمیلے نبٹاتے ہیں وہاں اس کو بھی پال لیا جائے تو کیا قباحت ہے مجھے یقین ہے کہ تھوڑی سی بھی دلچسپی دکھائی تو یہ جھمیلا بھی پر کشش لگنے لگے گا ضرورت ہے تو اس بند کھڑکی پر سے مٹی ہٹانے اسے کھول کر اس
میں جھانکنے کی جسکا نام کتاب ہے۔۔
Advertisements

Comments on: "کتب بینی اور ہم" (4)

  1. حضرت ہمارے کینیڈا میں بھی یہ ہی صورت حال ہے خاص طور پر تو انڈر گراونڈ ٹرین جنکو آپ لوگ کہتے ہیں اس میں سفر کے دوران تو ایک ایک ڈبے میں کئی کئی لوگ محو مطالعہ ہوتے ہیں ۔۔۔ مجھے یاد ہے پاکستان میں ایک دفعہ میں بس میں عمران سیریز پڑھ رہا تھا تو ایک انکل نے چھین لی تھی ، بلکہ وہ تو میرے گھر والوں کو اس عمل کی شکایت کرنے کے لیے گھر ساتھ جانے کو تیار ہو گئے تھے ۔۔

  2. Nice. I like what all you wrote there and good to see your typos in Urdu text too. Very persistent, I must say!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: