موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

ماں بولی دی اہمیت

سویرے جدوں دفتر پونچیا تے پتا نی کی سوچن ڈیا سی کہ خیال آیا جے ملک 1971 چے دو ٹوٹے نہ ہویا ہندا تے آج اے کمپنی وی کسے بنگلادیشی دی نئیں پاکستانی دی ہندی. اینا سوچاں نال ای کمپیوٹر چلایا تے روز ونگر گارڈیئن اخبار دی ویب سائٹ کھول لئی کسے نکر چے آج دے دیہاڑ بارے پتا لگا کہ اقوام متحدہ آج یعنی اِکی فروری نوں ماں بولی دا عالمی دن مناندی اے. اینے چیر چے ای فیسبک تے اے اتلی مورت ویکھی تے سوچیا آج دے دن بارے کج لخیا جاوے نال ای ارادہ کیتا کی پنجابی چے لخیاجاوے.
بس اس سے زیادہ میں پنجابی  میں سوچ تو سکتا ہوں لیکن لکھ نہیں سکوں گا کیونکہ زندگی میں کبھی ایسا موقع آیا ہی نہیں کہ پنجابی لکھنی پڑے بولنے کا جب بھی موقع آیا بولی ضرور ہے لیکن اپنی موجودہ ماں بولی لکھنا کافی کٹھن کام ہے. موجودہ ماں بولی اس لئے کہ میرے آباؤاجداد کی زبان تو راجھستانی تھی لیکن جب یہاں پنجاب میں آئے تو اپنی زبان بھول گئے اور وہ زبان اختیار کر لی جو وارث شاہ اور بلھے شاہ جیسے صوفیا کرام کی زبان ہے. یوں وقت نے ہمیں بھی پنجابی بنا دیا.
میرا تعلق بھی اسی پود سے ہے جو پیدا تو پنجابی گھروں میں ہوتے ہیں لیکن گھروں میں انکے ساتھ پنجابی نہیں بولی جاتی لہذا سوچ کا بنیادی چکر جب چلتا ہے تو وہ اردو میں چلتا ہے اور دیگر زبانوں کے استعمال کے لئے دماغ ہی دماغ میں ترجمہ کرتا ہے. جو تھوڑی بہت پنجابی بول لیتے ہیں اس میں ذاتی مشاہدے اور حلقہ احباب کا اثر ہوتا ہے. میرا قصہ تھوڑا مختلف اس لئے ہے کہ والد صاحب کا پہلا ایم اے پنجابی ادب میں تھا اور ھمارے مشرقی گھرانوں میں آج بھی یہ رواج ہے کہ بچے کا سب سے پہلا آئیڈیئل اسکا باپ ہوتا ہے. والد صاحبکی پنجابی کا بغور مشاہدہ کیا اور اسی طرح پنجابی پر اپنا ہاتھ سیدھا کیا اور آج کچھ بولنے کے قابل ہوا ہوں.

یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں ہمیشہ سے ہے اس قسم کا چول واقع ہوا ہوں کہ جس جہالت سے مجھے دور رکھا گیا میں اسی کے کسی نہ کسی طرح اس کی قریب رہا. ایسا نہیں ہے کہ مجھے اس بات کا کوئی افسوس ہے کہ میں اردو زیادہ اچھی بول لکھ اور سمجھ لیتا ہوں. اردو کے لئے جو عقیدت اور محبت دل میں ہے اسکو بیان کرنا میرے لئے بالکل بھی آسان نہیں ہے. صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جب حالات اور واقعات کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی ذاتی زبان کو چھوڑ کر کسی دوسری زبان کو اختیار کرنا پڑتا ہے تو دکھ سا ضرور ہوتا ہے. دکھ کی وجہ زبانِ غیر کے لئے کوئی تعصب یا نفرت بالکل نہیں ہے، بالکہ مجھے تو کئی زبانیں ذاتی طور پر بہت پسند ہیں، مثال کے طور پر مجھے بنگالی اور اطالوی بہت مٹھی زبانیں لگتی ہیں. ہسپانوی میں مجھے اپنی پنجابی والا جوش محسوس ہوتا ہے.

لیکن مجھے جو دکھ اور افسوس ہوتا ہے اس کی وجہ وہ اندھا دھن تعاقب اور اندھی تقلید ہے جو کم و بیش ہمارا قومی شیوا بن گیا ہے. سوچ، نظریات، اور غیروں کی زبان ہمیں اتنی ہی اچھی لگتی ہیں جتنی کہ ایک کہاوت کے مطابق "دوسروں کی بیوی” اچھی لگا کرتی ہے. دکھ اس بات کا ہے کہ ہم اس کہاوت کی بھی آدھی پیروی کرتے ہیں ہمیں اپنے بچے سی کوئی پیار نہیں. اپنے بچے سے یہاں میری مراد ان ماڑے موٹے کارناموں سے ہے جو غلطی سے کبھی کبھار ہی ہم سے سرزد ہو جاتے ہیں. اول انکی قدر نہیں کی جاتی اور کی جاتی ہے تو اتنے بھونڈے انداز میں کہ سب متنفر ہونے لگتے ہیں. انگریزی باعث فخر ہے اور اتنی کہ اسکو نہ بولنا ڈوب مرنے والی شرمندگی کا احساس دلاتا ہے لیکن اپنی زبان اردو ہو یا پنجابی اسکو پڑھتے وقت ہمیں وہ روانی حاصل نہیں ہوتی جو زبان غیر کے لئے ہم حاصل کر لیتے ہیں. اگر اپنی زبان ماں بولی ہوتی ہے تو زبان غیر شائد سوتیلی ماں وہ بھی ایسی پرکشش کی اپنی ماں کی قدر کم ہونے لگتی ہے. سوتیلے رشتوں کا ادب بھی لازم ہے اور انسانی فرض لیکن سوتیلوں سے حسن سلوک میں ہم سگوں کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں.

کچھ ایسا ہی ہماری نسل کے ساتھ بھی ہوا پنجابی کو جاہلوں کی زبان قرار دے کر ہمیں اردو کی طرف راغب کیا گیا جب اردو آ گئی تو انگریزی نامی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا کہ "لگے رہو منہ بھائی”. اور آگے سی منا بھائی ایسا جانفشاں ثابت ہوتا ہے کے رہے نام مولا کا.
آج کے دن بارے جب پتا چلا تو اسکی متعلق معلومات اکٹھی کیں کہ اس دن ایسا کیا ہوا تھا جو ماں بولی کا عالمی
دن قرار پایا. تاریخ کے تانوں بانوں کے سرے مجھے 1952 کے مشرقی پاکستان لے گئے جہاں بنگالی زبان کے حق میں تحریک چل رہی تھی. مشرق میں بسنے والے پاکستانیوں کا مطالبہ تھا کہ انکی ماں بولی یعنی بنگلا کو اردو کی طرح قومی زبان کا درجہ دیا جائے. ایک قابل حل مسئلے کو ہم نے طاقت کے زور پر حل کرنا چاہا اور تصادم کے نتیجے میں کچھ مظاہرین جان دے بیٹھے. اپنی ماں بولی کی حق میں کچھ نے جان دی اور دنیا کو باور کرایا کہ ماں بولی کی لئے کوئی کیا کر سکتا ہے، گو کہ اسکے پیچھے بھی ہمیں سازشی اور سیاسی تھیوریا‍ں نظر آئیں گی لیکن اسک ایک اثر یہ بھی ہے کہ آج بھی بنگالی اپنی زبان پر فخر محسوس کرتے ہیں اور ہمیں اردو کو اپنا کہتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی ہے.
کج ایہو جئی حالات تے کج ایہو جیاں کرتوتاں دی وجہ توں دلاں وچ کوڑ ودی گیا "سیانے” لوکاں نےایدا فائدہ چکیا تے سانوں ہوش اس ویلے آیا جدوں ملک تٹن والا ہو گیا. آج ساڈہ اپنا ویار اپنی ماں بولی دی نال ایہو جیا ہے کہ ایس زبان دی مشوری گالاں دی وجہ  تو ں ہے یا فیر سٹیج ڈرامے دے ناں اتے فضول جگت بازی تے بغیرتی دے پرچار دی وجہ توں. ساڈے اپنے کرتوت نے پنجابی بغیرت مشور کر تا. ہن اے ساڈے اتے ہے کہ اسی ایس سوچ نوں ٹھیک کریئے تے ایس بولی نوں اوہی مقام دوایئے جیڑا ایدا تے ایدے چے  شاعری کرن آلے صوفیا دی شان برابر ہووے.کیونکہ پنجابی اینا بغیرت نئیں جناں اسی اپ مشور کیتی بیٹھے ہاں.

Advertisements

Comments on: "ماں بولی دے نال ساڈا سوتیلا ویار" (5)

  1. بہت خوب فرمایا ، سوجھواناں آلی گل کیتی جے

  2. بہت خوب لکھا۔

  3. چلو جی اک تو اپنا یار ملا – – ٨ پیراگراف لکھنے کے لئے بھی کم از کم ٢ ٣ گھنٹے تو لگ گئے ہوں گے – – پانچویں پیرا میں آپ نے ہاتھ بہت ہولا رکھا ہے ورنہ جتنی گالیاں آج تک ضیاء کو ملی ہیں ان سے زیادہ کے حقدار ہیں فرنگی زبان کو چاہنے والے – –
    آج کے دور کا مثبت ترین اقدام کم از کم اگر بلندی کی طرف چلنا نہیں تو پستی سے رک جانا ہے – – اور چند گنے چنے لوگ رک جاتے ہیں اگر لگاتار چوٹ لگتی رہے 🙂

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: