موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

 آکسفورڈ ٹاؤن ہال کی عمارت کا بیرونی منطر

آکسفورڈ ٹاؤن ہال کی عمارت کا بیرونی منطر

پچھلے ماہ ایک بار پھر انگلستان میں اپنے پسندیدہ شہر آکسفورڈ جانے کا موقع ملا۔ وجہ اس بار بھی وہاں منعقد ہونی والی کانفرنس – پاکستان فیؤچر لیڈر کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس کا انعقاد ہر سال اکسفورڈ یونیورسٹی پاکستان سوسائٹی کرتی ہے اور مجھ جیسے عامی آکسفورڈ یونیورسٹی دیکھنے اور انگلی کٹا کر "فیوچرلیڈرز” کی فہرست میں شامل ہونے کے شوق میں گھس جایا کرتے ہیں. سفر کا آغاز 22 فروری کی صبح ہوا جب آکسفورڈ ٹیوب کی بس چلنے ہی والی تھی، میں ٹکٹ لہراتا ہوا بس کےدروازے کےپاس پہنچا اور ڈرائیور کواشارہ کیا کہ ناں جا سوہنیا رک جا. بس نے چلنا شروع کیا اور ہم نے عادت سے مجبور اردگرد نظردوڑائی رونق تو موجود تھی لیکن ساری کی ساری رونق اچھی خاصی عمر رسیدہ تھی لہزا سفر کےدوران انگریزی والے سفر سے بچنے کے لئےہم نے کتاب کا سہارا لیا اور نظر تب ہی اٹھائی جب بس آکسفورڈ کے سٹی سینٹر میں جا گھسی اور آخر کار بس کا سفر ختم ہوا اور ہم اپنا سامان گھسیٹتے ہوئے یوتھ ہاسٹل کی طرف چل دیئے. راستے میں کئی وہ مناظر دیکھے جن کے بارے میں پہلے لکھ چکا ہوں ہاں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ پورٹ میڈوز کو جو چلتے چلتے ایک نظر دیکھا اس نے ایسا اثر کیا کہ فیصلہ کر ڈالا کہ اپنے قیام کے دوران ایک بار تو ضرور صبح سویرے ادھر چہل قدمی کو آؤں گا۔

یوتھ ہاسٹل میں اپنا استقبال بڑا پر زبردست ہوا ان کانفرنسوں پر آنے والے ایک باقائدہ مجرم ہونے کی وجہ سے ملنیاں کچھ زیادہ ہی تھیں. نماز سے فارغ ہونے کے بعد استقبالیہ پر کھڑے اپنے تقریباً دوست انضار صاحب سے پوچھا کہ بھائی جان ایک کمرہ ملے گا تو یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہماری رہائش کا انتظام مبینہ طور پر ہی یہاں تھا جبکہ  تمام مردانے کو دوردراز کےایک عدد ریسٹ ہاؤس میں نکرے لگایا گیا ہے۔

جب ہم پیدل سفر کی ایک عدد مزید خواری دیکھ کر اس ریسٹ ہاؤس پہنچے تو یوں لگا کہ جیسے چلتے چلتے ریڈنگ پہنچ گئے ہیں اور آکسفورڈ کہیں پیچھے ہی گیا ہے. ریسٹ ہاؤس بھی کیا تھا کوئی پانچ چھ بھوت بنگلیاں جوڑ کر ریسٹ ہاؤس بنایا گیا تھا کمرہ آرام دہ تھا پر بیت الخلاء کے دروازے میں کنڈی نہیں تھی اور نہ ہی اس سے ملتی جلتی کوئی چیز یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں اس ملک میں لیکن لطیفہ یہ ہےکہ دروازہ جس مضبوطی سے بھی بند کرو وہ کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پھر سے کھل جاتا تھا لہزا انتیہائی سنجیدہ امورِ کے دوران چوکس رہنا پڑتا تھا. جب اس مہربانی کا تزکرہ انتظامیہ میں موجود اپنے واقفان سے کیا تو جواب ملا کہ ‘شکر کرو صرف خلاء نہیں دے دیا کہ جاؤ میاں موجاں کروں’۔ ساتھ میں یہ بھی تنقید کی کہ دعا کر لینا کہ روم میٹ شریف آدمی ہو۔

روا مصالہ دوسا

روا مصالہ دوسا

سامان کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہم نے دبارہ یوتھ ہاسٹل کی راہ لی جہاں کچھ احباب کھانے پرہمارا انتظار کر رہے تھے لیکن یہ ہماری خام خیالی ہی ثابت ہوئی کیونکہ وہ سب تو کھا پی کر ڈکاربھی مار چکے تھے لہزا ہم نے اکیلے ہی قریبی ساؤتھ انڈین ٹیک اوے سے روا(سوجی) مسالہ دوسا انجوئے فرمایا. کھانے سے فارغ ہوئے تو مزید دوست یار مل گئے ان میں سے سب سے زیادہ خوشی استاد نما دوست جناب (اور اب ڈاکٹر) زبیر غوری سے مل کر ہوئی. زبیر غوری صاحب بھی ایک دلچسپ شخصیت ہیں انکا تعلق افسر شاہی اور محکمہ اطلاعات سے ہے. اسی وجہ سے ایک عرصہ تک  پی ٹی وی سے وابستہ رہے اور مختلف موضوعات پر پروگرام بھی کرتے رہے. جو لوگ کئی سال پہلے ریڈیو سنا کرتے تھے انکو شائد لاہور سے پروگرام کرنے والا "بگ فز” تو یاد ہو گا وہ بھی یہی موصوف ہیں. یہاں سکاٹ لینڈ میں ایڈنبرگ یونیوردسٹی سے ‘میڈیا اینڈ ٹیررازم’ میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں اور اپنی کتاب کی اشاعت کا انتظارکر رہے ہیں. اپنے ایک دوست سے انہوں نے میرا تعارف کچ اس طرح کروایا،  "ایناں نوں ملو ازلان صاحب نیں ایناں دے نام تے پولی شکل تے نا ں جانا پورے جٹ آدمی نیں جیڑے رجپوتاں ول جم پئے"(ان سے ملئے یہ ازلان صاحب ہیں انکاے نام اور بھولی سی شکل پر نہ جانا پورے جٹ آدمی ہیں جو راجپوتوں کے ہاں پیدا ہو گئے). اب پتا نہیں یہ تعریف تھی یا کیا تھا ہم استاد کہہ بیٹھنے کے بعد عزت و احترام کے چکر میں ہی خاموش رہے. اور چپ چاپ آکفورڈ ٹاؤن ہال کی طرف چلنے لگے جہاں کانفرنس کی افتتاحی تقریب ہونی تھی۔

آکسفورڈ ٹاؤن ہال کا اندرونی منطر

آکسفورڈ ٹاؤن ہال کا اندرونی منطر

ٹاون ہال آکسفورڈ شہر کے وسط میں سینٹ آلڈیٹ کے مقام پر واقعہ ہے. آکسفورڈ کی شہری حکومت کے اہم اجلاس اسی عمارت میں ہوتے ہیں اس کے علاوہ آکسفورڈ کا عجائب گھر  بھی اسی عمارت میں ہے. اب اس عجائب گھر اور شہرمیں موجود باقی پونا درجن عجائب گھروں میں کیا فرق ہے جاننے کے لئےمحنت درکار ہے جسکی ہم سے امید لگانا بےوقوفی ہی ہے. اس عمارت کو سب سے پہلے 1292 میں تعمیر کیا گیا اس وقت یہ گائڈ ہال کے نام سے تھی. موجودہ عمارت 1893 میں گوتھک طرز میں بنائی میں بنائی گئی. اس عمارت کو عام تقریبات کےلئے بھی کرائے پر حاصل کیا جا سکتا ہے. اس عمارت میں میرے علاوہ قدم رنجا فرمانے والی اہم شخصیات میں نیلسن منڈیلا اور میخائل گوربچوف شامل ہیں۔

ہال کافی کشادہ ہے البتہ روشن کچھ اس طرح سے تھا کہ میں زہنی تناؤ کا شکار ہونے لگا. چھت پر نقش و نگار ایسے کہ ان میں جان ڈل جائے تو سب کے سب حدود آرڈیننس کے زیر اثر  دھر لئے جائیں. خیر عمارت دیکھ کر ایک خیال آیا کہ گورا صاب نے جو کچھ اکٹھا کیا اپنے ہاں سے لگایا بڑے زوق  سے ہے.

تقریب شروع ہونے سے قبل مزید جانے پہچانے چہرے نظر آ گئے جن میں پاکستان سوسائٹی کے نئے صدر رنچن مرزا شامل تھے. رنچن سے مل کر

نقش و نگار

نقش و نگار

کافی حیرت ہوئی کہ یہ شریف آدمی کدھر پھنس گیا اور یہ سادہ طبیعت گلگت سے آیا نوجوان انتخابات کیسے جیت گیا. خیر مبارکباد ایک اور واقف کو دینا تھی ان خاتون سے بھی خاصی دعا سلام ہے انکو تازہ انتخابات کے بعد عہدہ کے لئے منتخب ہونے پرمبارک دی تو سننے کو ملا  "عید نہیں ملنی” میں نے شرمندہ سا ہو کر کہا کہ ‘میں خواتین سے عید نہیں ملا کرتا’۔ تو کھا جانے والی نظروں سے ڈلنے والی گھوری نے کانوں کے ساتھ ساتھ دل و  دماغ کی میل بھی صاف ہو کر دی. اور یاد آیا کہ ذکر اینٹ کا ہو رہا ہے جو ایک دو روز قبل اپنی کسی بے وقوفی سے ہم دل برداشتہ ہو کر اپنے سر پر مارنے کا فیصلہ اور اعلان کر چکے تھے۔

تقریب شروع ہوئی تو نائب ڈپٹی ہائی کمشنر نے تقریر جھاڑنی شروع کردی وہ کہہ کیا رہے تھے خدا معلوم بس انکا اٹھارواں صفحہ پلٹنا تھا کہ زبیر غوری صاحب اور میں نے  ہال سے ہجرت کی اور سر درد کی گولی کھائی تاکہ دنیا میں واپس آ سکیں. کھڑکی سے نظر آیا کہ سٹیج پر ایک مونچھوں والے حضرت تقریر فرما رہے ہیں شکل جانی پہچانی لگی جب غوری صاحب کو شکل کرائی تو معلوم ہوا کہ ملالہ یوسف زئی کے والد صاحب ہیں. جب تقریروں کا سلسلہ ختم ہوا اور سٹیج پر میزکی جگہ واجے طبلے رکھے گئے تو ہم نے بھی اپنی جلاوطنی ختم کی اور عطا اللہ عیساخیلوی کو لایئو سننے کا اعزاز حاصل کیا. آواز انکی کیسی بھی ہے لیکن وہ اپنے فن میں ماہر آدمی ہیں انکے گیتوں کی اہم بات انکی بیٹ ہوتی ہے جو ہم جعلی بازوقوں کو آرے لگائے رکھنے کے لئےکافی ہوتی ہے۔

اپنے فن کا مظاہرہ کر لینے کے بعد عطا اللہ صاحب نے واپسی کی راہ لی ویسے بھی فن اور موسیقی کے نام پر جو کچھ اسکے بعد سٹیج پر ہوا اسکو خاں صاحب کے لئے ہضم کرنا ناممکنات میں  سےتھا. پہلے ایک موصوف نے  چیخیں مارنے کا مظاہرہ کیا اس فن سے میں اتنا متاثر ہوا کہ دل چاہا اس نوجوان کو ایک اچھی سی پھکی تجویز کر دوں تاکہ اسے اس تکلیف سے نجات ملے.  بھر ایک بی بی سی ڈی گروپ نے نصرت فتح علی خان کی روح کو ازیت دی۔ اسکے بعد باری تھی رقص  کی

"مصنف" اپنے دوست ڈاکٹر غوری اور مشہور فنکار عطا اللہ عیسی خیلوی کے ساتھ

"مصنف” اپنے دوست ڈاکٹر غوری اور مشہور فنکار عطا اللہ عیسی خیلوی کے ساتھ

اپنی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ اتنی قریب سے یہ فن سٹیج پر دیکھنے کو ملتا. لہزا میں اور ہمارے استاد محترم غوری صاحب اگلی نشستوں پر چلے گئے اور ایک عدد مزید نفسیاتی ظلم کو جھیلنے لگے. غوری صاحب نے اس ساری تقریب پر یک سطری تبصرہ یہ کیا کہ آج ہمیں یہ مجرہ ہی بچنا ہے بس. جب تفصیل پوچھی تو وہ لطیفہ سننے کو ملا جس میں ایک دکاندار کو پورے دن کی کمائی میں سے صرف کھسرا ہی بچتا ہے. لطیفہ کچھ ایسا ہے کہ ایک روز دکاندار کی بکری خاصے مندے میں رہی. شام کو ایک عدد کھسرا اسی دکاندار کو ادائیں دکھاتا ہوا گزرا. اس دکاندار نے اپنی اس روز کی ساری کمائی اس کھسرے کو دے دی اور خود سے کہا ‘اج سانوں اے کھسرا ای بچیا اے’ (آج مجھے بس یہ کھسرا ہی بچا ہے). تقریب اور کھانے  سے فارغ ہو کر میں واپس ریسٹ ہاؤس
اپنے کمرے میں پہنچا. یہاں میرا روم میٹ نازل ہوا، موصوف کا تعلق اس تنظیم سے ہے جو پاکستان میں تو بین ہے لیکن ادھر خلافت اور اسلام کا چارہ دکھا کر بھولی مجوں یعنی بھینسوں کو انقلابی بنانے میں مصروف عمل ہے. موصوف نے میری بڑھی ہوئی شیو سے داڑھی کا گمان لیا اور  آپنی برادری  کا سمجھ لیا ۔ مجھ سے نظام پر  بات کرنے لگے انکو آنے والے انتخابات میں بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی کیونکہ وہ نظام میں تبدیلی کے خواہاں تھے. اس بات کے نام پر لیکچر کو اگنورتے ہوئے ہم نے منہ پر تکیہ رکھا اور نندیا پور کی راہ لی کیونکہ اگلےروز کمیٹی کے اجلاس میں ان جیسے کئی خواتین و حضرات سے یہی تقریر دبارہ سننی تھی۔

 (جاری ہے ۔۔۔)

Advertisements

Comments on: "آکسفورڈ گردی – حصہ اول" (7)

  1. جزئیات کا دلچسپ اور مزیدار طریقہ بیان
    بندے کو پوری پوسٹ پڑھانے کی جملہ خصوصیات موجود ھیں
    لیکن وہ کھسرے والا لطیفہ ھڑپ کر کے اچھا نی کرا
    ملالے کے ابے کو دو چار رکھے کہ نہیں؟
    وھاں تو ایسی باتوں کی آزادی ھے نا؟

    • یار آزادی بھی ایک کتی قسم کی منافق چیز ہے۔ کچھ مقامات پر ‘پر’ جل جایا کرتے ہیں اور اپنے تہ ہیں ہی نہیں۔
      وہ لطیفہ ادھر سنے گا یا پوسٹ کو ایڈٹوں؟

  2. Sarfraz khalil said:

    Good. Acha likha ha. Sfrnama likh apna detailed. You have got talent. Or lateefy wali zyati ha. Bnda ya to pora lateefa sunaye na phir refer e na kry. Dil toor diya Mian!

  3. ویری گڈ جی
    پاکستانیوں کی اسی بہتات کی وجہ سے کبھی ہمارا حوصلہ نہیں ہو سکا کہ برطانیہ یاترا کو نکلیں۔ اگر اپنے "بھائیوں” سے ملنا ہے تو بندہ لاہور، گجرات، گجرانوالہ چلا جائے لازمی لندن جائیں

    • خیر اب ایسی بھی بات نہیں رمینئنز اور پولش نے اپنی برادری کو پیچھے چھوڑ دیا ہے. کچھ علاقے برطانیہ میں ہیں جہاں اس قسم کی بہتات نہیں ملے گی. رہا لندن تو ایک بار ضرور آیئے گا یہاں کی ڈائورسٹی کا اپنا ایک رنگ ہے جسے میرے جیسا بد زوق اگر انجوئے کر سکتا ہے تو آپ تو پھر ماہر ہیں.
      اور ہاں جب بھی لندن آنا ہو بی مائی گیسٹ

      • پولوں کا کچا چھٹا بھی خوب جانتے ہیں 🙂
        بہرحال ویزا پروسیجر کا ڈرامہ دیکھتے ہوئے امکان نہیں کہ مستقبل قریب میں اپلائی کریں لیکن ریان ائیر کی سستی ٹکٹ للچاتی رہتی ہے 🙂

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: