موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

حبیب جالب

کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماری

کہاں بدلی ہیں تقریریں ہماری

وطن تھا ذہن میں زنداں نہیں تھا

چمن خوابوں کا یوں ویراں  نہیں تھا

بہاروں نے دئے وہ باغ ھم کو

نظر آتا ہے مقتل باغ ہم کو

گھروں کو چھوڑکر جب ہم چلے تھے

ہمارے دلوں میں کیا کیا ولولے تھے

یہ سوچا تھا ہمارا راج ہو گا

سرِمحنت کشاں پر تاج ہو گا

نہ لوٹے گا کوئی محنت کسی کی

ملے گی سب کو دولت زندگی کی

نہ چاٹیں گی ہمارا خون مشینیں

بنیں گی رشکِ جنت یہ زمینیں

کوئی گوہر کوئی آدم نہ ھوگا

کسی کو راہزنوں کا غم نہ ہوگا

لٹی ہر گام پر امید اپنی

محرم بن گئی عید اپنی

مسلط ہے سروں پر رات اب تک

وہی ہے صورتِ حالات اب تک

خوشی ہے چند لوگون کی وراثت

کہا جاتا ہے غم ہیں اپنی قسمت

ہوئے ہیں جھونپڑے ہی نزر طوفان

مگر قائم ہے اب تک قصر و ایوان

خدایا کوئی آندھی اس طرف بھی

الٹ دے ان کلہداروں کی صف بھی

زمانے کو جلال اپنا دکھا دے

جلا دے تخت و تاج انکو جلا دے

ہے ابھی تک پابجولاں خطہ پاک

پڑی آزادیوں کے سر پہ ہے خاک

ستارق اوج پر ہے رہزنوں کا

نہیں پرساں کوئی خستہ تنوں کا

Advertisements

Comments on: "حبیب جالب – 14 اگست" (1)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

ٹیگ بادل

%d bloggers like this: