موضوعات کئی اور ان پر ایک رائے کی رائے

Posts tagged ‘Pakistan’

اگر ہے جزبہِ تعمیر زندہ۔

کل 6   ستمبر تھا دنیا کے جس حصے میں میں آجکل رہ رہا ہوں وہاں یہ باقی دنوں کی طرح ایک عام سا دن تھا ، لیکن دنیا کے جس حصے سے میرا تعلق ہے کہ جہاں میں نے زندگی گزاری وہاں یہ دن ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اب کا تو پتا نہیں پر کوئی ایک دہائی پہلے کلنڈر پر یہ دن سرخ رنگ سے لکھا ہوتا تھا، عام تعطیل ہوتی تھی اور لوگ اس دن اور اس کے بعد ہونے والی واقعات کو یاد کیا کرتے تھے. پھر ہمارے ہاں روشن خیالی کی ایک لہر آئی جس نے ہمیں "کاما” بنا دیا، پنجابی میں بہت زیادہ کام کرنے والے کو کاما کہتے ہیں. اب چونکہ ہم پہلے سے زیادہ کام کرتے ہیں لہٰذا اب ہمیں عام تعطیل کی ضرورت نہیں رہی  کلنڈر پر تاریخ کا رنگ بدلا اور اس دن کی اہمیت جاننے کا واحد ذریعہ اخبارات کا خصوصی ایڈیشن اور ٹی وی کے چند پروگرام رہ گئے یا اگر کسی کو سہولت میسر ہے تو ان لوگوں کی کہانیاں جنہوں نے سینتالیس سال قبل اس جنگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ، وہ جو آج کے روز شروع ہوئی. (more…)

فیصل آبادیاں” – با حفاظت سفر”

یہ ایک سلسلہ ہے جہاں میں اپنے مشاہدات تحریر کروں گا اپنے پسندیدہ شہر فیصلآباد کے بارے میں یہ پسندیدہ کیوں ہے یہ تحریروں میں کھل کر سامنے آ جائے گا. سو لیجیے پہلی قسط
گاڑی جیسے ہی فیصلآباد کی حدود میں داخل ہی چاہچو نے سلواتیں سنانا شروع کر دیں جو کہ انکی عادت ہے. فیصلآباد سے ایک خاص قسم کی چڑ ہے چاچو کو جبکہ مجھے  ایک انس ہے اس شہر سے بھائی اپنی اصلی والی جا ئے  پیدائش بھی ہے اور جب تک  نانا نانی زندہ  تھے تو اپنا ننہال بھی تھا کسی شاعر نے بھی کیا خوب کہا ہے
اک شخص کیا گیا ہے مرا ساتھ چھوڑ کر
میں ہو گیا ہوں اجنبی آبائی شہر میں۔

ہماری آج کی بہث و تکرار اور ہماری سیاسی روایات

کالج کے زمانے میں اْردو نامی بھی ایک مضمون پڑھایا جاتا ہے. پڑھایا تو یہ شاید اس لئے جاتا ہے کہ اپنی قومی زبان سے وابستگی کو مضبوط کیا جائے مگر جو رویہ ہمارا آج اس زبان کے ساتھ ہے کچھ ایسا ہی ان دنوں بھی تھا جب میں کالج میں حصول تعلیم کا شغل فرمارہا تھا. اس زبردستی کی مسلط کردہ اردو میں سر سید احمد خان کا مضمون "بحث و تکرار” پڑھنے کا اتفاق ہوا. مضمون میں خاکہ کھینچا گیا ہے کے کیسے بظاہر مہذب نظر آنے والی لوگ بحث و تکرار میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ دفعتاً ان دائروں سے باہر ہو جاتے ہیں جو تہذیب نے کھینچ رکھے ہیں،اس سارے عمل میں انسان بڑی کامیابی سے ڈارون کے اس نظریے کو کہ انسان پہلے جانور تھا تقویت بخشتے ہیں. ایک صدی سے زائد عرصہ قبل لکھا گیا یہ مضمون جسے میں نے لگ بھگ آٹھ برس پہلے پڑھا تھا ,مجھے آج بھی اپنے ذہن میں تروتازہ محسوس ہوتا ہے۔

(more…)

بچوں کی عوامی ڈانٹ ڈپٹ – راۓ نامہ

میرے کالج سے… عمران خان کے کالج تک

زندگی میں کئی واقعات ایسے رونما ہو جاتے ہیں جو کئی سال گذرنے کے بعد بھی لاشعور میں اپنی چھاپ چھوڑ

ھیلی کالج براے کامرس اور کیبل کالج

جاتے ہیں. اور کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے ک ہمارا سامنا ان واقعات سے کسی اور مقام پر ہو جاتا ہے. لوگ بدل جاتے ہیں زبان مختلف ہوتی ہے حتاکہ سب ماحول بدل جاتا ہے. لیکن وہ ماضی کا ایک حصہ دوبارہ سے دماغی بحث کا موضوع بن جاتا ہے. ہر انسان کی طرھ میرا بھی ماضی ہے جو ک اچھے برے خوشگوار اور بھیانک واقعات سے مل کر بنا ہے

ٹیگ بادل